51

ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں

ہری ہے شاخِ تمنا ابھی جلی تو نہیں

دبی ہے آگِ جگر مگر بجھی تو نہیں

جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی

کٹی ہے بر سرِ میداں مگر جھکی تو نہیں

ابھی غلط ہے نمودِ رُخِ سحر کا خیال

ابھی تو سخت اندھیرا ہے شب ڈھلی تو نہیں

ابھی کچھ اور دکھائے گی روز بادِ خزا ں

چلے گی بادِ بہاری مگر ابھی تو نہیں

چمن میں آمدِ گلچیں ہے آگ برساؤ

یہ رسم و راہِ وفا ہےسرکشی تو نہیں


شاعر:جاویدؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں