27

دین کی خدمت مگر کس قیمت پر؟

یہ عجیب بیماری اب مذہبی کارکنان میں در آئی ہے کہ خدمت دین کے جس شعبہ سے منسلک ہیں بس اسی کو کشتی نوح سمجھ رکھا ہے اس کے علاوہ باقی دین کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم دین کی بڑی خدمت کر رہے ہیں اور ہماری نجات کے لیے یہی کافی ہے
یہ ایک شیطانی وسوسے کے سوا کچھ نہیں

بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے جس کا مفہوم ہے کہ جنت میں وہی جائے گا جو مومن ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فاسق آدمی سے بھی لے لیتے ہیں

لازم ہے کہ ہر روز اس حدیث کو یاد کریں اور اپنا محاسبہ کریں کہیں ہم وہ رجل فاسق تو نہیں جن سے اللہ تعالیٰ دین کا کام لے رہا ہے
اللہ کے نزدیک مکرم وہ ہے جو متقی ہے کیا ہمارے اندر تقویٰ موجود ہے؟

اگر تقوی موجود ہے تو شکر کریں کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کے لیے قبول کر رکھا ہے اور اگر تقوی نہیں تو مقام فکر ہے
کیا آپ نے نہیں سنا کالا پانی میں جب علماء کو سزائے موت سنائی گئی سب علماء خوش تھے کہ شہادت ملتی ہے اور شیخ الہند علیہ الرحمہ روتے تھے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ قربانی بھی لیتا اور قبول بھی نہیں کرتا

مذکورہ بالا حدیث سے مجھے تین اصول سمجھ آئے ہیں جن پر میں عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں
ا. ہمارے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم دین کے کسی شعبہ سے منسلک ہیں اور اجتماعی اعمال میں مصروف ہیں بلکہ تقوی ضروری ہے جس کے لیے انفرادی اعمال کی پابندی ضروری ہے
ب. کسی شخص کے حق ہونے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں کہ اس سے دین کو بڑا فائدہ ہورہا ہے اس کی تقریر و تحریر سے ہزاروں لوگ دین سے جڑ رہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا اس کا قول و فعل شریعت کے مطابق ہے یا نہیں یعنی وہ متقی ہے یا نہیں
ج. کوئی کام اس وجہ سے جائز نہیں ہوجاتا کہ اس سے دین کو فائدہ ہوگا بلکہ دین کے فائدہ کے لیے صرف جائز امور اختیار کرنے چاہیے. اگر دین کے فائدہ کے پیش نظر ناجائز امور اختیار کریں گے تو حدیث میں مذکورہ رجل فاسق کے مثل ہوجائیں گے
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین
نوٹ : پوسٹ میں موجود حدیث شریف کے علاوہ سب میری ذاتی سوچ ہے.
معوذ جبلی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں