43

مفتی کی ذمہ داری


سوال : میرا پڑوسی جس کا نام بشیر ہے فلاں فلاں فلاں عقائد کا حامل ہے اور نجی مجالس میں یہ یہ باتیں کرتا ہے کیا اس سے تعلق رکھنا جائز ہے کیا وہ مسلمان ہے؟
جواب : اگر آپ کے پڑوسی کے یہ عقائد ہیں تو ان میں سے فلاں فلاں عقائد کفریہ ہیں اور فلاں فلاں سخت گمراہی اور یہ باتیں اگر اس نے کہی ہیں اور اس کا یہ مقصد تھا تو وہ دائرہ ایمان سے نکل چکا ہے اس کو سمجھائیں بصورت دیگر میل ملاقات ختم کردیں. فقط واللہ اعلم
…………..
یہ ایک سوال جواب ہے اس سوالنامہ کے بعد مفتی صاحب نے جو تحقیق کی ہے وہ اس شخص کے عقائد اور اقوال سے متعلق کی ہے مفتی صاحب نے اس محلہ میں جاکر اس شخص ملاقات نہیں کی اور نہ ہی اہل محلہ سے معلومات اکٹھی کی
کیونکہ یہ مفتی کا کام ہی نہیں ہے مفتی کا کام صرف اتنا ہے جو سوالنامہ آئے اس کے مطابق مناسب سمجھے تو جواب دے نہ مناسب سمجھے تو کہہ دے میں نہیں جانتا
…………
واضح رہے یہ ایک مفتی کی زمہ داری اور اس کا طریقہ کار بیان کیا ہے اگر آپ کو اس اختلاف ہے اور سمجھتے ہیں مفتی پر لازم ہے وہ خود حقیقت حال کی تحقیق کرے تو آپ اس سے اختلاف سوشل میڈیا پر کر سکتے ہیں یا پھر خود کوئی اپنا دارالافتاء بنا لیں
متقدمین سے مفتیان کرام کا جو طریقہ چلا آرہا ہے وہ میں نے عرض کردیا ہے
……………..
اب سوال کریں کہ شیعہ مسلمان ہے یا کافر؟
تو جواب آئے گا کہ شیعہ کے بہت سارے فرقے ہیں سب گمراہ ہیں مگر فلاں فلاں عقائد رکھنے والے کافر ہیں
اگر آپ کو لگتا ہے کہ اب صرف کفریہ عقائد رکھنے والے ہی شیعہ رہ گئے ہیں
تو آپ یہ سوال کریں کہ ایک فرقہ جو یہ یہ عقائد رکھتا ہے کیا وہ مسلمان ہے یا کافر؟
تو جواب ملے گا کہ اگر وہ یہ یہ عقائد رکھتا ہے تو کافر ہے

اگر آپ کہتے ہیں کہ سب شیعہ یہی عقائد رکھتے ہیں لہذا مطلق شیعہ کے کفر کا فتوی دو
تو مفتی صاحب نہیں دیں گے

ایک دارالافتاء کو آپ مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ اس مسئلہ پر خود حقیقی صورتحال جانے یا آپ کی تحقیق پر اعتماد کرے ممکن ہے انہوں نے بھی تھوڑی بہت تحقیق کی ہو اور وہ آپ کی تحقیق کے برخلاف ہو تو کیا اب آپ زبردستی اپنی تحقیق منگوائیں گے یا جو آپ کی تحقیق نہ مانے اس کی کردار کشی کریں گے؟
………….
نوٹ: جو سیاسی زعماء اور مذہبی راہنما ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقت حال کو جانیں اور لوگوں کو بتائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں