23

جمہوریت کا حسن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ملک میں ہر پانچ سال بعد الیکشن ہوتے ہیں اور جیتنے والی پارٹی جانتی ہے کہ اسے جو کچھ کرنا ہے پانچ سال میں ہی کرنا ہے اس لیے اول تو وہ کوئی ایسا پروجیکٹ شروع ہی نہیں کرتے جس کی تعمیر میں پانچ سال سے زائد لگیں اور کریڈٹ کوئی اور لے جائے یا پروجیکٹ ادھورا چھوڑ دے اور دوسرا جو پانچ سال سے کم مدت کے پروجیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی اس طریقے سے ڈیزائن کیے جاتے ہیں کہ حکومت کے آخری سال تکمیل کو پہنچیں اور وہ اس بیس پر اگلے الیکشن کی کمپین چلاسکیں ۔
دوسری چیز ہر حکومت آتے ہی عوام کو بے حد تنگ کرتی ہے تاکہ بتا سکے کہ ہمیں کن مشکل حالات میں حکومت ملی ہے پچھلی گورنمنٹ کیا کباڑہ کر گئی ہے اور آخری دو سال میں کچھ نرمی کرتی ہے تاکہ جتلاسکے کہ معیشت ہم نے سدھاری ہے
مگر بات یہاں تک رہتی تو بھی معاملہ کچھ بہتر ہوتا ہے
مسئلہ مزید تب بگڑتا ہے جب ایک حکومت اپنے لوٹ مار کی تین سالہ مدت مکمل کر کے عوام کو ریلیف دینا شروع کرتی ہے تو دوسری پارٹیاں اسے اپنی سیاسی موت سمجھ کر متحد ہوجاتی ہیں اور اس حکومت کو مدت مکمل کرنے سے پہلے ہی ختم کروانے کی کوشش کرتی ہے عوام کی بھی تین سال میں بس ہوچکی ہوتی ہے اس لیے عوام بھی ساتھ دیتی ہے یوں پاکستان مین یہ کھیل چلتا رہتا ہے کم ہی کوئی حکومت مدت پوری کرپاتی ہے۔موجودہ حکومت بھی چونکہ سال کے لیے بنی ہے تو سات آٹھ ماہ فل سختی کے ہوں گے پھر حکومت نرمی کرے گی تاکہ الیکشن کی کمپین چلاسکے اور عمران خان کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ نرمی والا وقت حکومت کو نہ مل سکے اور قبل از وقت نگران حکومت بن جائے ۔
اس سے پہلےحکومت میں خان کو پورا یقین دلایا گیا تھا کہ دس سال آپ کے ہیں اس لیے بے فکر تھا مگر جونہی سرپرستوں کا ہاتھ اٹھا فورا ریلیف دیا گیا (خان خود اقرار کرچکا ہے کہ آئی ایم ایف کے کہنے کے باوجود پٹرول مہنگا نہیں کیا کیونکہ اسے پتا تھا اگلی قسط میں نے وصول نہیں کرنی )اور یہی چیز پی ڈی ایم کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی
مزید تاریخ بھی کھنگال سکتے ہیں مگر اس کا سب بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام اس نظام کے خلاف متحد نہیں ہوتی بس پارٹیوں کے خلاف لڑتی ہے اور یہ لڑائی بھی پارٹی لیڈروں سے نہیں ہوتی بلکہ اپنے محلہ میں موجود پارٹی ورکروں یا حمایتوں سے ہوتی ہے کیونکہ ان کی پہنچ یہیں تک ہے اور جب تک متحد نہین ہوں گے ان کی پہنچ یہیں تک رہے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں