ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کیوں ضروری ہے ؟ 40

ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کیوں ضروری ہے ؟

ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کیوں ضروری ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبلیغی اصول بیان کیا جارہا ہے کہ برائی کا ذکر چھوڑ دو برائی ختم ہوجاتی ہے ۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے ویلن ٹائن ڈے کو اس کے مخالفین نے مشہور کیا ہے اگر اس کی مخالفت ترک کردی جائے تو کوئی اس کا نام لینے والا نا ہو۔
عجیب لوگ ہیں مشورہ دینے سے پہلے علم حاصل کرتے ہیں نہ معلومات جمع کرتے ہیں ۔ویلنٹائن کے خلاف ایک پوسٹ نہ لگا سکے مگر اس کی مخالف کرنے والوں کے خلاف ایک ایک دن میں تین تین پوسٹیں لگارہے ہیں پتا نہیں یہ تبلیغی اصول انہیں خود کو یاد کیوں نہیں آرہا ۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ جو لوگ اس دن یوم حیا مناتے ہیں وہ اسی تبلیغی اصول پر عمل پیرا ہیں وہ برائی کا رد کرنے کی جگہ اچھائی کے فروغ میں لگے ہوئے ہیں لیکن آپ کو ان پر بھی اعتراض ہے یاللعجب۔اس سے پہلے کہ برائی کی مخالفت پر قرآن و سنت اور اہل خرد کے اقوال لکھیں جائیں ایک نظر بات پر ڈالنا ضروری ہے کہ ویلنٹائن ڈے پاکستان میں کیسے آیا اور باقی دنیا میں کیا پوزیشن ہے تاکہ اس الزام کا تجزیہ ہوسکے کہ اسے کس نے مشہور کیا
ویلنٹائن ڈے کا آغاز کیسے ہوا اور پس منظر کیا تھا یہ تو اب کسی سے پوشیدہ نہیں پر صدیوں بعد اس کو دوبارہ زندہ کرنےا ور تشہیر کرنے کی کہانی یہ ہے کہ اٹھار ویں اور انیسویں صدی میں کچھ یورپی ممالک میں چند بک ڈپوؤں پرایک کتاب ( ویلنٹائن کی کتاب کے نام سے ) فروخت شروع ہوئی جس میں عشق ومحبت کے اشعار ہیں،جسے عاشق قسم کے لوگ اپنی محبوبہ کو خطوط میں لکھنے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور اِس میں عشق ومحبت کے خطوط لکھنے کے بارہ میں چند تجاویز بھی درج تھیں ۔اور ٹھرکیوں کی یہ کتاب سرمایہ دارانہ ذہنیت کے ہاتھ لگ گئی یوں اس تہوار کو زندہ کیا گیا ۔دنیا بھر میں کرسمس کے بعد سب سے زیادہ کارڈ اسی دن فروخت ہوتے ہیں ۔امریکن گریٹنگ کارڈ ایسوسی ایشن نے اندازہ لگایا ہے کی دنیا بھر میں اِ س دن تقریباََ ایک ارب کارڈ بھیجے جاتے ہیں ہر سال کینیا ، بھارت اور دیگر ممالک سے لاکھوں ڈالر کے سرخ گلاب برطانیہ پہنچتے ہیں ۔سویڈن میں اس دن کو سب سے پہلے 1960 میں فلاور انڈسٹری نے ہی منایا تھا یوں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے اس کی تشہیر شروع کردی اور پوری دنیا میں یہ دن میڈیا کی توسط سے پہنچا خود ہمارے پاکستان میں پچھلی صدی کے آخری سالوں میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کے ذریعہ اس کی تشہیر کی گئی اور ہر آنے والے سال اس کی تشہیر میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے ۔ اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا میں جو اس دن طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے اس کی ہلکی سی جھلک پاکستان میں آپ نے دیکھی ہے لیکن اس کی انتہا دیکھنی ہے تو فرانسسکو چلے جائیں جہاں ویلن ٹائن ڈے کے موقع پر ہم جنس پرست خواتین و حضرات کے برہنہ جلوس دیکھے گئے ۔ جلوس کے شرکاء نے اپنے سینوں اوراعضائے مخصوصہ پر اپنے محبوبوں کے نام چپکا رکھے تھے۔ وہاں یہ ایسا دن سمجھا جاتا ہے جب ’محبت‘ کے نام پر آوارہ مرد اور عورتیں جنسی ہوسناکی کی تسکین کے شغل میں غرق رہتی ہیں۔
جناب عالی ! ایسے میں بھی اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مخالفین ہی اسے مشہور کر رہے تو آپ کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے مزید میں آپ کو بتادوں اس سال پاکستان میں ہولی منائی گئی کیا یہ علماء کی مخالفت کرنے کے بعد شروع ہوئی ؟؟؟؟
اور اگر اب علماء نے اس کی مخالفت نہ کی اس پر پابندی نہ لگوائی تو چند سالوں میں یہ عام ہوجائی گی اور پھر لوگ کہتے پھریں گے کہ مخالفین نے اس کو عام کیا ہے ۔ جناب عالی چھوٹے سے پودے کو توڑنا آسان ہوتا ہے لیکن جب وہ تناور درخت کی شکل اختیار کرلے پھر اسے اکھاڑنا ہر کسی کے بس میں نہیں رہتا ہے شیخ سعدی ؒ نے فرمایا تھا
دیدم بسے کہ آب سرچشمہ خرد۔۔۔۔ چوں بیشتر آمد شتروبار ببر
بہت مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ چشمہ کا پانی جب زیادہ ہوتا ہے اونٹ اور بوجھ بہا لے گیا
آپ کیسے لوگ ہیں کہ جب برائی ابتدائی شکل میں ہے تو اس کی مخالفت سے منع کر رہے ہیں تاکہ وہ پھل پھول جائے اور اس کو ختم کرنا مشکل ہوجائے اور مجھے یقین ہے اگر لوگ اس وقت خاموش رہے اور دس سال بعد اس کے خلاف نکلیں تو آپ فرمائیں گے آپ کی آنکھیں اب کھلیں ہیں اتنے عرصہ تک بھنگ پی کے سورہے تھے
جی جناب والا آپ دیکھ لینا جو لوگ آج مولوی کو خاموشی کا مشورہ دے رہیں. وہ دس سال بعد اس کی تباہ کاریاں دیکھ کر اس گمراہی کا الزام بھی مولوی کو دیں گے کہ اس نے دس سال پہلے اسے رد کیوں نہیں کیا
تلخ نوائی کی معذرت بہت سے سنجیدہ لوگ بھی ہیں لیکن شرپسندوں کی وجہ سے لہجہ کڑوا ہوگیا خیر قرآن وسنت سے اگر راہنمائی لی جائے تو ہمیں بےشمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جو ہم اس موقعہ پر خاموش رہنے سے روکتی ہیں صرف دو پر اکتفاء کروں گا کیوں کہ ماننے والوں کے لیے یہی کافی ہے اور نہ ماننے والوں کی لیے تو دعا ہی کی جاسکتی ہے وہ بھی اللہ چاہے گا تو قبول ہوگی
اس حوالہ سے ایک قصہ تو سورہ اعراف میں ذکر ہے بنی اسرائیل کو اللہ رب العزت نے ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے سے منع کیا تھا کچھ بدقماشوں نےحیلے بہانے سے مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں اس وقت علماء قوم نے ان کو سمجھانا شروع کیا تو کچھ عقلمد جمع ہوگئے اور کہنے لگے کوئی فائدہ نہیں ان کو سمجھانے کا ان پر تو اب اللہ کا عذاب ہی آئے گا ۔ اور پھر واقعتا اللہ کا عذاب آیا لیکن صرف ان پر نہیں جو مچھلیاں پکڑ رہے تھے ان پر بھی آیا جو منع کرنے والوں کو روک رہے تھے ۔
اور آپ دیکھیں آج بھی کچھ لوگوں نے پوسٹیں لگارکھی ہیں کہ تمہاری مخالفت سے کونسا لوگ رک جائیں گے خیر ایک حدیث شریف بھی سن لیں
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيَعُمَّنَّكُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْ عِنْدِهِ ، ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيبُ لَكُمْ ترجمہ:حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بضرور تم نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ورنہ اللہ تعالی تمھارے اوپر عذاب مسلط کردے گا پھر تم دعا مانگو گے تو دعا قبول نہ ہوگی۔
تو جناب عالی اگراب بھی آپ سمجھتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے پر خاموش ہی رہنا چاہیے تو بڑے شوق سے رہیں پر جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں ان پر طنز و تشنیع اور تنقید مت کریں کہیں ایسا نہ خدانخواستہ آپ پر بھی بنی اسرائیل جیسی کوئی آفت آجائے
الھم احفظنا منہ
معوذ جبلی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں