41

چلغوزہ

چلغوزہ ایک قسم کے پائن کے درخت پر لگتا ہے .اس درخت کا سائنسی نام Pinus gerardiana ہے۔
ان کے سوئی نما پتے پورا سال سرسبز رہتے ہیں, اور ہر قسم کے شدید موسم برداشت کرلیتے ہیں.
آپ جانتے ہیں کہ اکثر درخت موسمِ خزاں میں اپنے پتے جھڑتے ہیں لیکن یہاں کچھ اور ہے چلغوزے کے درخت اور ان کے فیملی کے قریبی درخت موسم سرما میں اپنے پتوں میں اینٹی فریزر بھرلیتے ہیں اور ان کے سوئ نما پتوں کے باہر موم چڑھی ہوتی ہے جو پتے کے اندرونی مائع کو جمنے سے محفوظ رکھتا ہے,علاوہ ازیں یہ پودے تقریباً 17 کروڑ سالوں سے اپنے پتے نہیں جھڑتے ہیں۔
اسی طرح چلغوزے بھرپور خوردنی گری دار میوے ہیں۔ ان میں فائٹو کیمیکلز ، وٹامنز ، اینٹی آکسیڈینٹ اور جسم کو طاقت دینے والی متعدد معدنیات ان میں پاۓ جاتے ہیں۔ طبی طور پر بیجوں کو توانائی بخش سمجھا جاتا ہے۔ بیجوں میں سے تیل زخموں اور ناسور زخم (السر) کے علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، یہ سر کی بیماریوں کے علاج میں بیرونی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ پائن کے دیگر درختوں کی طرح ،ان میں Resins جسکو ہم مقامی زبان میں “طولا” کہتے ہیں خارج ہوتا ہے۔اس ٹرپینٹائن اینٹی سیپٹیک ، ڈوریوٹیک ، روففیسینٹ اور ورمفج نامی کیمکلز پائے جاتے ہیں جو کسی زخم کو فوراً مندمل کردیتا ہے۔گردوں اور مثانے کی شکایات کرنے والے مریضوں کے لۓ چلغوزے کے بیج بہت مفید ہے۔ یہ سانس کے نظام کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے اور اسی وجہ سے سانس کی شکایات جیسے کھانسی ، نزلہ ، اور ٹی بی کی بیماریوں کے علاج میں بھی مفید ہے۔ بیرونی طور پر یہ جلد کی مختلف ، زخموں ، ، جلنے ، پھوڑوں وغیرہ کے علاج میں بہت فائدہ مند ہے۔ چلغوزے کے بیج ذائقہ میں میٹھے اور لذیذ ہوتے ہیں ، ہاضمہ بہتر بناتا ہے، غذائیت سے مالامال ہیں ، یہ خاص طور پر اولیک ایسڈ پر مشتمل ہوتے ہیں ۔جو فیٹی ایسڈ سے مالامال کولیسٹرول” کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور خون میں ایچ ڈی ایل یا “گڈ کولیسٹرول” بڑھاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چلغوزے میں مونوسریٹوریٹیٹ فیٹی ایسڈ ، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈینٹس ہوتے ہیں ،جو کورونری بیماری اور اسٹروک کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ پائن گری دار میوے میں فیٹی ایسڈ (ω-6 چربی) ، پنینوک ایسڈ موجود ہوتا ہے, اس کے متعلق حالیہ تحقیق نے بھوک کو روکنے کے ذریعے وزن کم کرنے میں اس کے ممکنہ استعمال کو ظاہر کیا ہے۔ ان کے بیج آنتوں کی بیماریوں کے لۓ بہت مفید ہیں۔ بادام کی طرح وٹامن ای کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ وٹامن ای جو جلد کی خلیوں کو نقصان دہ آکسیجن فری ریڈیکلز سے بچاکر رکتا ہے۔ مزید یہ کہ ، پائن گری دار میوے میں مینگنیز ، پوٹاشیم ، کیلشیئم ، آئرن ، میگنیشیم ، زنک اور سیلینیم جیسے ضروری معدنیات پاۓ جاتے ہیں۔
یہ درخت افغانستان،پاکستان اور انڈیا کے پہاڑی علاقوں میں 1800 سے 3350 فٹ پر پایا جاتا ہے۔یہ وزیرستان میں بڑی مقدار پاۓ جاتے ہیں۔یہ پہاڑی علاقوں میں اگتے ہیں۔ان علاقوں میں میدانی علاقوں کی طرح وہاں ایکڑوں پر باغ لگانے کا تصور ہی نہیں ہے۔ اور یہ پھل 25-20سال کی عمر میں ہی پھل دیتا ہے، جو چلغوزہ ہمارے پاس آتا ہے وہ انہی جنگلوں میں سے اتارا جاتا ہے۔ اس کے باغات نہیں ہوتے ہیں۔ان پہاڑی جنگلوں میں لگتا ہے۔ انڈیا میں ہماچل پردیش کی ریاست میں اس کی نرسری بنانے کی کوشش کی گئی تو بیجوں کا اگنے کا ریٹ اچھا نہیں تھا۔ پھر بھی وہاں کا فارسٹ ڈپارٹمنٹ اس کے پودے بنا کر جنگل میں لگا رہا ہے کہ اس کے جنگلات بڑھ جاۓ لیکن یہ انتہائ سست رفتار پراسیس ہے۔۔ پیداورا بڑ ھنے کا ایک یہ طریقہ ہے کہ پھل دار درخت کی ایسی قسمیں بنائ جائیں جو جلدی پھل دیں جیسے گرافٹنگ،ائرلیرنگ یا قلم لگا کے یا لیبارٹری میں جی ایم و بیج بنا کر۔ میں وجہ نہیں جانتا لیکن چلغوزہ پائن کی ابھی تک ایسی قسم بن نہیں سکی اور اگر بن بھی جائے تو تو بڑا مسلہ ہے کہ صرف پہاڑی علاقے میں خاص بلندی پر لگتا ہے، یہ جہاں اگایا بھی جا رہا ہے تو صرف سیڈ سے۔۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس کی پیداوار کیوں نہیں بڑھائئ جا سکتی.

تحریر: امجد خان محسود,اور ماجد راشد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں