40

چند قیمتی نصائح

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی اساتذہ کے ساتھ ایک نجی مجلس میں چند نصائح:

1- سب سے اہم چیز اخلاص ہے، خطابت کے جوہر دکھانا، شعلہ بیان تقاریر وغیرہ کسی کام کے نہیں جب تک دل میں للٰہیت اور خلوص نہ ہو۔

2- درس و تدریس سمیت ہر کام کو خدمت کی نیت سے کرنا سیکھیں۔ آج تعلیم بھی پیشہ بن چکا یعنی نیت یہ ہے کہ پیسہ آئے اور زیادہ آئے، بس! حالانکہ جذبہ کسی بھی کام کے پیچھے خدمت کا ہونا چاہئے تب جا کر فائدہ ہوگا اور نفع ملے گا۔
اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کسی جگہ انسان خدمت کرتا ہو اور دوسری جگہ سے پیشکش آئے جس میں تنخواہ زیادہ ہو مگر خدمت کے مواقع کم ہوں، اب اگر بندہ صرف تنخواہ کے پیچھے زیادہ خدمت والی جگہ چھوڑتا ہے تو پتہ چلا کہ مقصد دنیا تھا نہ کہ خدمت۔
اپنے والد ماجد مفتی اعظم محمد شفیع رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا کہ شروع میں جب دیوبند میں تدریس کی خدمت شروع کی تو تنخواہ 15روپے مقرر ہوئی جو بعد میں جاکر 65 روپے تک جاپہنچی۔
آپ کو کلکتہ کے دارالعلوم سے پیشکش ہوئی کہ 500 ماہوار تنخواہ پر کام کریں، تو کہاں 65 اور کہاں 500؟
مگر فرمایا کہ والد ماجد قدس سرہ نے ایک جوابی خط لکھ دیا کہ میں نے نہیں آنا ہے کیونکہ دیوبند میں خدمت کے مواقع زیادہ تھے۔ اس خط ميں متنبی کا یہ شعر بھی لکھ دیا:
ومن ركب الثور بعد الجواد … أنكر أظلافه والغبب
کہ جو شخص ایک تیز رفتار گھوڑے کی سواری کے بعد کسی بیل کے اوپر سواری کرے گا تو اسے بیل کے پاؤں اور اس کی گردن کبھی پسند نہیں آئے گی۔

3- اپنے اکابر کے سوانح پڑھنے کا جتنا اہتمام ہوسکے کرنا چاہئے۔ حضرت گنگوہی، کا ندھلوی،
تھانوی اور شیخ الہند رحمہم اللہ کے سوانح میں وہ کچھ اللہ کے فضل سے موجود ہے جو کسی اور جگہ شاید ہی مل سکے۔
ان بزرگوں کا مزاج و مذاق سنت نبوی ع بن چکا تھا۔ حضرت مظفر حسین کاندھلوی رحمہ اللہ کے چند عجیب و غریب واقعات سنائے
اللہ تعالی سے ان قیمتی نصائح پر عمل کرنے کی دعاء کرنی چاہئے کہ وہی توفیق دینے والے ہیں۔ امین۔
منقول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں