39

اسلامک بینکنگ

اسلامک بینکنگ

محمد اویس پراچہ

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو نبی کریم ﷺ سے کچھ خاص محبت تھی۔ جو اچھی چیز ملتی وہ آپ کی خدمت میں لے آتے۔ امام مسلمؒ اور امام بخاریؒ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس برنی کھجور (کھجور کی ایک عمدہ قسم) لے کر آئے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے دریافت فرمایا: “یہ کہاں سے آئی؟” عرض کیا: “ہماری کھجور تو کم درجے کی تھی۔ میں نے اس کے دو صاع دے کر یہ ایک صاع لے لی تاکہ ہمارے نبی ﷺ اسے تناول فرمائیں۔” فرمایا: “اوہ! یہی تو سود ہے۔ یہ نہ کیا کرو۔ اگر تمہیں کھجور کی یہ لین دین کرنی ہو تو پہلے اسے الگ سے بیچو، پھر اسکے بدل سے یہ خرید لو۔”
کچھ ایسا ہی واقعہ ایک اور بار ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے امام مسلمؒ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو خیبر میں عامل بنایا۔ وہ آپ کے پاس عمدہ کھجور لے کر آئے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: “کیا خیبر کی ہر کھجور ایسی ہوتی ہے؟” کہا: “نہیں اے اللہ کے رسول! ہم اس کا ایک صاع دوسری کے دو صاع کے بدلے اور دو صاع تین صاع کے بدلے خریدتے ہیں۔” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ایسا نہ کیا کرو۔ ردی کھجور دراہم کے بدلے بیچا کرو اور ان دراہم سے عمدہ کھجور خرید لیا کرو۔”

میں نے یہ روایات پڑھیں اور سوچنے لگا۔ نتیجہ تو ایک ہی نکلتا ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس ردی کھجور تھی۔ فرض کریں اس کے دو صاع کی قیمت دس دراہم تھی۔ انہوں نے وہ عمدہ کھجور والے کو دس دراہم کی بیچ دی اور اس سے ان دس دراہم کی ایک صاع کھجور خرید لی تو فرق کیا ہوا؟

میں سوچنے لگا کہ اگر ہمارے کچھ احباب اس دور میں ہوتے تو ان کے تبصرے کیا ہوتے؟ “یہ تو کان ادھر سے پکڑنے والی بات ہو گئی۔”، “یہ سودی نظام کو شریعت کا نام دیاجا رہا ہے۔”، “یہ سرمایہ دارانہ نظام کی مدد کی جا رہی ہے۔”، ” یہ حیلوں کے ذریعے ناجائز کام کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔”، ” یہ تو سراسر باطل اور طاغوتی نظام کی مدد ہے۔”، “یہ کیسا نظام ہے جس کا نتیجہ سودی نظام جیسا ہی ہے؟” اور بعض احباب تو شاید ایک تصویر بھی لگا دیتے جس میں دو افراد بنے ہوتے، ایک کی گردن میں سودی نظام کا پھندا ہوتا اور دوسرے کی گردن میں تسبیح کا۔ ہو سکتا ہے کوئی سنگ دل اس پر ایک عدد لطیفہ بھی بنا دیتا جسے سب اپنی اپنی مجالس میں وائرل کر رہے ہوتے۔ یہ خیالات آنے پر میں شکر کرتا ہوں کہ ہمارے یہ احباب اس دور میں نہیں تھے۔

اب ذرا موجودہ دور میں آجائیے!

“کنونشنل بینک بھی گاڑی قسطوں پر دیتے ہیں اور اسلامک بینک بھی۔ یہ کیسا اسلامی نظام ہے؟” بھائی کیا اسلامک بینک گاڑی فری میں دینا شروع کر دیں؟ کیا ان کے پاس لوگوں کی رقوم نہیں ہیں جو لوگوں نے انہیں مضاربت کی بنیاد پر دی ہوئی ہیں کہ انہیں نفع ملے؟ دونوں میں فرق طریقہ کار کا ہے اور نتیجہ ایک جیسا ہے۔ دونوں کے ایگریمنٹ سامنے رکھیے، پراڈکٹ پالیسی بینک سے لیجیے اور پڑھ لیجیے۔ فرق نظر آ جائے گا۔ فرق میں جائز و ناجائز سمجھنا ہے تو کسی ماہر عالم سے وقت لے کر ان کے پاس تشریف لے جائیے۔

” کنونشنل بینک بھی سامان خریدنے کے پیسے دے کر اضافی رقم لیتے ہیں اور اسلامک بینک بھی مرابحہ میں یہی کرتے ہیں۔ یہ تو کان ادھر سے پکڑنے والی بات ہے۔” یعنی بینک آپ کو کاروبار کے لیے سامان فری میں دیا کرے اور آپ اسے بیچ کر نفع کمایا کریں؟ بینک ہے یا خیراتی ادارہ؟ مرابحہ بینک حقیقتاً کرتا ہے اور مرابحہ ایک شرعی طریقہ کار ہے۔ کتب فقہ میں اس کے ابواب موجود ہیں۔ مرابحہ میں نفع (ربح) کا لفظ اس کے نام میں ہی شامل ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ بینک نفع نہ لے؟

“کنونشنل بینک بھی قسط ادا نہ کرنے پر جرمانہ لگاتے ہیں اور اسلامک بینک بھی۔ جرمانہ سراسر سود ہے۔” کنونشنل بینک جرمانہ خود رکھتا ہے اور اسلامک بینک اسے چیرٹی میں ڈالتا ہے۔ قسطوں پر جس نے ادائیگی کرنی ہوتی ہے وہ پہلے یہ وعدہ کرتا ہے کہ بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں اتنی رقم صدقہ دے گا۔ بینک اس سے لے کر وہ صدقے میں ڈالتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ لوگ سالوں ادائیگی نہ کریں اور بینک ان کے دروازے پر جا کر منتیں کرتا رہے کہ خدا کے لیے پیسے دے دو؟

“شریعہ بورڈ دین فروش علماء پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ شریعہ بورڈ بینک کے حرام کاموں کو حلال کا سرٹیفکیٹ دیتا رہتا ہے۔” اور اس کے بعد وہ آپ کو میسج کرتا ہے کہ میں نے ایسا کیا ہے؟ خدا کے لیے بدگمانی کا لیول کم رکھا کریں۔

“شریعہ بورڈ بینک سے تنخواہ کیوں لیتا ہے؟” آپ مریض کو دوائی بتانے کی، مسجد میں امامت کی، این جی او کو سنبھالنے کی، طلبہ کو پڑھانے کی، افسر بن کر عوام کی خدمت کی اور ایم پی اے بن کر اسمبلی میں ٹائم پاس کرنے کی تنخواہ کیوں لیتے ہیں؟ اگر آپ کے ساتھ پیٹ لگا ہوا ہے تو شریعہ بورڈ کے ساتھ بھی وہی چیز ہے، کوئی ڈبہ نہیں ہے۔ کیا ہر وکیل جو کلائنٹ سے فیس لیتا ہے، عدالت میں جھوٹ ہی بولتا ہے؟ کیاہر امام مسجد کمیٹی سے تنخواہ لے کر اسےاس کی مرضی کے مسئلے گھڑگھڑ کر دیتا ہے؟ اگر یہاں ایسا نہیں ہے تو وہاں کیوں؟ مزید یہ کہ بینک کا شریعہ بورڈ تنخواہ تو بینک سے لیتا ہے لیکن ماتحت اسٹیٹ بینک کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کا ہوتا ہے۔ اس لیے عموماً اسلامک بینکس میں شریعہ بورڈ سب سے مضبوط ڈیپارٹمنٹ سمجھا جاتا ہے۔ اگر بینک اس کی ہدایات پر نہ چلے تو شریعہ بورڈ اس کی کمپلین اسٹیٹ بینک کو کرتا ہے۔

“ہر بینک اسٹیٹ بینک سے جڑا ہوا ہے اور وہ سودی بینک ہے۔” میں آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں؟ آپ کی جیب میں پیسے ہیں؟ کوئی نوٹ نکالیے اور اس پر یہ جملہ پڑھیے: “بینک دولت پاکستان حامل ہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا”۔ کیا ادا کرے گا؟ یہ مبہم ہے کیوں کہ بریٹن ووڈ کانفرنس کے بعد روپے کے پیچھے سونا تو ہے ہی نہیں، البتہ ڈالر ضرور ہیں۔ اور ڈالر کے پیچھے ڈاکٹر چالس ڈبلیو ایوان کے مطابق ڈالرز کا سود ہے۔ لہذا تعلق تو آپ کا بھی اسی سود سے ہے۔ لیکن یہ راز کی بات ہے لہذا کسی کو بتائیے گا نہیں۔ میرے پاس کچھ اور بھی ایسی راز کی باتیں ہیں کہ آپ کے لیے پھر بکریاں اور پہاڑ ہی رہ جائیں گے۔ باقی اسٹیٹ بینک کا اپنا شریعہ ایڈوائزری بورڈ ہے جس کا کام اسلامک بینکنگ سے متعلق معاملات میں اسٹیٹ بینک کی رہنمائی کرناہوتا ہے۔ اس میں معیشت کی لائن کے ماہر علماء کرام ہوتے ہیں اور یہ دیکھنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ دوسرے اسلامی بینکس کے ساتھ سود کا معاملہ نہ ہو۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری فریم ورکس بھی اسلامک بینکس کے لیے الگ ہیں۔ کبھی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ تو وزٹ کیجیے۔

“ہمیں فلاں منیجر نے کہا ہے کہ اسلامک بینکنگ بھی ویسی ہی ہے اندر سے۔”کتنی مزے کی بات ہے کہ آپ مفتیان کرام کے بجائے منیجر کے فتاوی پر چلتے ہیں۔ ایسے مجتہد و فقیہ منیجر سے مجھے بھی ملوائیں تاکہ میں اس کے ہاتھ پر بیعت کروں اور آئندہ فقہ اسی سےپڑھا کروں۔

“اسلامک بینک کی برانچ میں عورتیں کام کرتی ہیں۔” وہاں مرد بھی ہوں گے، آپ عورتوں کو ہی کیوں دیکھتے ہیں؟

میرے جملے اگر سخت معلوم ہوئے ہوں تو معذرت چاہتا ہوں۔ اسلامک بینکنگ اصل میں غیر سودی بینکنگ ہے۔ یعنی اس بات کی کوشش کہ معاملات کا نتیجہ نفع کے اعتبار سے وہی رہےاور طریقہ کار اسلامی ہو جائے۔ اسی طرح جیسے اس حدیث مبارکہ میں مذکور ہے۔ مذکورہ بالا تمام اشکالات عوامی اور سطحی ہیں جبکہ اس غیر سودی بینکاری کے پیچھے ایک زمانے کا علمی کام ہے اور اب یہ انتہائی مضبوط شکل میں آ چکی ہے۔ اس کے باقاعدہ قوانین مدون ہو چکے ہیں جنہیں شریعہ اسٹینڈرڈز کہا جاتا ہے اور یہ کسی ایک عالم کے بنائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ دنیا کے معروف ترین علماء کی مجلس کے تیار کردہ ہیں۔ انہیں ائمہ اربعہ کی فقہ کے ساتھ ساتھ اجتہادی بصیرت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

اس پر کسی قسم کا علمی اشکال ہو، اس سے کوئی فقہی اختلاف ہو تو یہ درست ہے۔ آپ اگر عالم اور مفتی ہیں تو آپ اپنی فقہی رائے رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ غیر عالم ہیں اور آپ کے ذہن میں اشکالات ہیں تو کسی عالم سے سمجھ سکتے ہیں اور جس عالم کے تقوی اور علم پر اعتماد ہو اس کی رائے پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر آپ غیر عالم ہیں اور اس کے باجود اپنی بات پر ڈٹے رہنا چاہتے ہیں یا اس کا مزاح اڑانا اور جگت بازی آپ کو پسند ہے تو پھر آپ کا مسئلہ علمی نہیں نفسیاتی ہے۔ آپ کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہو یا تبلیغ میں گزارے ماہ و سال، بیماری بیماری ہوتی ہے۔ جلد از جلد کسی نفسیاتی ڈاکٹر سے اپنا علاج کروائیے تاکہ یہ بیماری بڑھنے نہ پائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں